فهرس الكتاب

الصفحة 351 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: پیشاب کرنے والے کو سلام کہنا

351 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَتَيَمَّمَ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی پاس سے گزرا، اس نے آپ ﷺ پر سلام کیا۔ نبی ﷺ نے جواب نہ دیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو زمین پر دونوں ہاتھ مار کر تیمّم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔

1)اس حدیث کی یہ سند ضعیف ہے،البتہ اس قسم کا واقعہ دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔صحیح بخاری میں حضرت ابوجہیم بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ بئز جمل کی طرف سے تشریف لارہے تھے کہ ایک آدمی آپ کو ملا۔اس نے سلام کہا تو نبی ﷺ نے جواب دینے سے پہلے دیوار پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر پھیر ے ( تیمم کیا) پھر سلام کا جواب دیا۔ ( صحیح البخاری التیمم باب التیمم فی الحضر اذا لم یجد الماء وخاف فوت الصلاۃ حدیث:337)

2۔کسی عذر اور مشغولیت کی وجہ سے سلام کا جواب مؤخر کرنا جائز ہے۔

3۔امام بخاری ؒ نے مذکورہ بالا واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ تیمم کے لیے سفر شرط نہیں۔ سورہ مائدہ کی آیت6 سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیمم سفر ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت میں ان حالات کا ذکر ہے جن میں عام طور پر تیمم کی ضرورت پیش آسکتی ہے یہ مطلب نہیں کہ ان حالات کے علاوہ تیمم جائز نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت