فهرس الكتاب

الصفحة 3538 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: اچھی فال پسند کرنااور بد شگونی کو برا جاننا

3538 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بدفالی شرک ہے ۔اور ہم میں سے ہر کسی کو کوئی نہ کوئی وہم ہو ہی جاتا ہے ، لیکن اللہ تعالی توکل کی وجہ سے اسے دفع کردیتاہے ۔''

اگر کسی موقع پر دل میں بدشگونی کا تصور پیدا ہوجائے۔تو اس کا علاج اللہ پر توکل ہے یعنی یہ حقیقت زہن میں لائی جائے کہ خیر وشر کا مالک اللہ ہے۔یہ پرندے او دوسری مخلوقات کسی مصیبت کاباعث نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت