فهرس الكتاب

الصفحة 3540 من 4341

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل

باب: اچھی فال پسند کرنااور بد شگونی کو برا جاننا

3540 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ» . فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَتَجْرَبُ بِهِ الْإِبِلُ، قَالَ: «ذَلِكَ الْقَدَرُ، فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نہ بیماری متعدی ہوتی ہے ،نہ بدشگونی کو ئی چیز ہے او رنہ ابو کی کوئی حقیقت ہے ۔'' ایک آدمی نے اٹھکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ایک خارشی اونٹ سے تمام اونٹوں کو خارش لگ جاتی ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ''یہ تقدیر ہے ،پہلےاونٹ کو کس نے خارش لگائی ؟''

اگر ایک اونٹ کو دوسرے سے خارش لگی اوردوسرے کوتیسرے سے تو کوئی اونٹ تو ایسا ہوگا جس کو دوسرے سے نہیں لگی ہوگی۔تو جس سبب سے وہ بیمار ہوا۔ اسی سبب سے بعد والے بیمار ہوسکتے ہیں۔خواہ انھیں کوئی بیمار ملے یا نہ ملے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت