فهرس الكتاب

الصفحة 355 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: پا نی سے استنجا کرنا

355 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ فَمَا طُهُورُكُمْ قَالُوا نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنْ الْجَنَابَةِ وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ قَالَ فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ

سیدنا ابو ایوب انصاری' ؓ، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:''اس مسجد میں ایسے آدمی (نماز پڑھتے) ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ بھی پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔'' تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اے انصار کی جماعت؟! اللہ تعالیٰ نے تمہاری صفائی پسندی کی تعریف کی ہے۔ تمہاری صفائی کیسی ہوتی ہے؟ { ۭفِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ } '' انہوں نے عرض کیا: ہم نماز کے لئے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:'' یہی بات ہے۔ اس کو اختیار کیے رکھنا۔''

۔وضو اور غسل جنابت تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔صرف پانی سے استنجاء ایسی چیز ہے جس پر بعض لوگوں کا عمل نہ کرنا ممکن ہے جس کی وجہ سے عمل کرنے والے قبل تعریف ہوں۔بہرحال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی پر اکتفاء کرنے کے بجائے پانی استعمال کرنا افضل ہے۔

2۔آیت مبارکہ میں جس مسجد کا ذکر ہے اس سے بعض علماء نے مسجد نبوی اور بعض قباء مراد لی ہے،تاہم دونو ں مساجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے ۔اور دونوں مساجد میں نماز پڑھنے والے طہارت اور نظافت کا اہتمام کرنے والے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت