فهرس الكتاب

الصفحة 357 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: پا نی سے استنجا کرنا

357 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ قُبَاءَ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ قَالَ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' آیت مبارکہ { فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ } ''اس مسجد میں ایسے آدمی (نماز پڑھتے ) ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں ،اور اللہ بھی پاک رہنے والوں کو پسند فرماتاہے۔'' قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ فرمایا: وہ پانی سے استنجا کرتے تھے، تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔''

: صحیح مسلم میں حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تو نبی ﷺ نے مسجد نبوی کو اس آیت کے مصداق قرار دیا ہے: دیکھیے: ( صحیح مسلم الحج باب بیان ان المسجد الذی امس علی التقوی ھو مسجد النبی ﷺ بالمدینہ حدیث:1398)

تاہم مسجد قباء کی بنیاد بھی خود رسول اللہ ﷺ نے رکھی ہے اس لیے اسے بھی تقوی کی بنیاد پر تعمیر شدہ ( لمسجد اسس علي التقوي ) پاک لوگوں کی مسجد قرار دیا جا سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت