فهرس الكتاب

الصفحة 3589 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: ریشم(کا لباس)پہننا بری بات ہے

3589 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ

حضرت براء ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: رسو ل اللہ ﷺ نے ریشمی کپڑے سے ، عام ریشم سے اور موٹے ریشم سے منع فرمایا۔

۱۔ ریشم سے مراد وہ ریشہ ہے جسے ریشم کا کیڑا تیا ر کرتا ہے۔ مصنوعی طور پر بنائے ہوئے دھاگے جو ریشم سے مشابہ ہوں ریشم میں شامل نہیں اگرچہ لوگ انھیں ریشم ہی کہتے ہیں۔

۲۔ دیباج کی تشریح النہایہ میں یوں کی گئی ہے: [الثياب المتخذة من الابريسم ] ابریشم کے بنے ہوئے کپرے ۔جبکہ المنجد میں اس لفظ کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے۔:وہ کپڑا جس کا تا نا اور بانا (دونوں ) ریشم کے ہوں۔

۳۔ ریشم سے ممانعت صرف مردوں کے لیے ہے۔ (سنن ابن ماجہ حدیث:۳۵۹۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت