فهرس الكتاب

الصفحة 3632 من 4341

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل

باب: لمبے بال رکھنا اور مینڈھیاں بنانا

3632 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا:اہل کتاب بال (مانگ نکالے بغیر) لٹکاتے تھے، اور (عرب کے) مشرکین مانگ نکالتے تھے۔رسول اللہ ﷺ کو اہل کتاب کی موافقت پسند تھی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ (شروع میں) سر کے بال (اہل کتاب کی طرح) لٹکاکر رکھتے تھے ، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔

۱۔ مکہ مکرمہ میں مشرکین کی اکثریت تھی۔رسول اللہ ﷺان سے امتیاز کے لئے اہل کتا ب کا انداز اختیار فرمالیتے تھے۔جب رسول ﷺ نے ہجرت فرمائیتو مدینہ میں موجود کثیر اہل کتاب سے فرق کرنے کے لئے دوسرا انداز اختیار فرمایا۔

۲۔رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل وحی کی روشنی میں ہوتا تھا اس لئے بال مانگ نکالے بغیر کھلے چھوڑنا منسوخ ہے اور مانگ نکالنا مسنون اور ثواب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت