3638 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایاہے۔
۱۔ (قزع) کے لغوی معنی ہیں: بادل کے متفرق ٹکڑے ۔ حدیث میں اس کا مطلب وہ وہے جو حضرت ابن عمر نے بیان فرمایا۔
۲۔اس سےممانعت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے احبار و رہبان اس طرح کرتے تھے۔ اور یہ وجہ بھی کہ یہ فاسق لوگوں کا طریقہ تھا۔
۳۔آج کل سر پر لمبے بال رکھ کر گردن سے صاف کر دئے جاتے ہیں ۔ اور گردن سے بتدریج بڑے ہوتے جاتے ہیں۔ خاص طور پر جوجیوں اور پولیس والوں کے بال کاٹنے کا خاص انداز بھی اس سے ملتا جلتا ہے اس میں زیادہ حصے کے بال کاٹے جاتے ہیں۔یہ طریقہ بھی قزع سے ایک لحاظ سے مشابہہ اور خلاف شریعت ہے اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
۴۔ کسی بیماری یا دوسرے عذر کی وجہ سے اگر سر کے ایک حصے کے بال اتارنے پڑیں تو جائز ہے۔