3644 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ أَهْدَى النَّجَاشِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَةً فِيهَا خَاتَمُ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ وَإِنَّهُ لَمُعْرِضٌ عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ ثُمَّ دَعَا بِابْنَةِ ابْنَتِهِ أُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ فَقَالَ تَحَلِّي بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا:نجاشی ؓ نے نبی ﷺ کی خدمت میں سونے کی ایک انگوٹھی ہدیے کے طور پر بھیجی ، اس میں حبشی نگینہ جڑا ہوا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے اسے لکڑی سے یا اپنی کچھ انگلیوں سے پکڑا، پھر اپنی نواسی حضرت امام بنت ابو العاص ؓا کو بلاکر فرمایا: بیٹی ! یہ زیور پہن لو ۔
۱۔مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا منع ہے۔
۲۔ عورت کے لیے لونے کا زیور پہننا جائز ہے۔
۳۔ کم عمر بچیاں بھی زیور پہن سکتی ہیں۔۴۔حضرت امامہ نبی اکرم ﷺ کی نواسی تھیں ۔ ان کی والدہ حضرت زینب رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر تھیں۔