3674 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرَائِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے جبریل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے حتی کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی شریک ٹہرا دیں گے ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ اپنی مرضی سے کوئی شرعی حکم جاری نہیں کرتے تھے بلکہ وحی کے ذریعے سے جو حکم نازل ہوتا تھا اس پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔ ۲۔ وراثت کے قوانین نصوص پر مبنی ہیں، ان میں قیاس نہیں چلتا۔ ۳۔پڑوسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کا خیال رکھنا چاہیے۔