فهرس الكتاب

الصفحة 3699 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: ذمیوں کو سلام کا جواب دینا

3699 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى الْيَهُودِ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ

حضرت ابو عبدالرحمن جہنی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں کل یہودیوں کے پاس جاؤں گا ۔انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرنا ۔جب وہ تمہیں سلام کہیں تو (جواب میں) کہنا:وَعَلَیۡکُمۡ۔

1۔مسلمانوں کے ملک میں غییر مسلموں کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے برابر درجہ نہیں رکھتے تا کہ وہ مسلمانوں کو تنگ کرنے کی جرآت نہ کریں اور اسلام قبول کرنے میں اپنی بہتری محسوس کریں۔

2۔مسلمانوں کو نہیں چاہیے کہ غیر مسلم کو سلام کہے بلکہ غیر مسلم کو چاہیے کہ مسلمان کو سلام کہے اور مسلمان جواب دے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت