3720 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ
حضرت انس بن مالک ؓ سےروایت ہے ، انہو ں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بے تکلفی کا اظہا رفرماتے تھے حتی کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: اے ابو عمیر ! نُغَیر کا کیا بنا؟ امام وکیع ؓ کہتے ہیں: نُغیر ایک پرندہ تھا جس سے وہ بچہ کھیلتا تھا ۔
۱۔ نغیز یا نغر ایک پرندے کا نام ہے جو چڑیا کے مشابہ ہوتا ہے، اس کی چونچ سرخ ہوتی ہے۔ (النہایہ) حافظ ابن حجر نے اس کی تشریح میں ایک قول یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد (صعو) (ممولا) بروزن عفو ہے۔ (فتح الباری:10/ 715) ۲۔ بچوں سے دل لگی کی باتیں کرنا جائز ہے جس سے بچوں کی خوشی ہو۔ ۳۔ بعض لوگ چھوٹے بچوں سے مذاق میں ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے بچوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ یہ جائز نہیں۔۴۔ پرندے وغیرہ پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کی خوراک وغیرہ کا مناسب خیال رکھا جائے۔