فهرس الكتاب

الصفحة 3739 من 4341

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل

باب: اولاد ہونے سےپہلے کنیت رکھنا

3739 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ مَوْلًى لِلزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ أَزْوَاجِكَ كَنَّيْتَهُ غَيْرِي قَالَ فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا:آپ نے میرے سوا اپنی تمام ازواج مطہرات کی کنیت رکھی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ام عبداللہ ہو۔

۱ ۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ میرے لیے بھی کوئی مناسب کنیت مقرر فرما دیجئے ۔۲۔ام المومنین ؓ نے یہ بات اس لیے کہی کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی جس کے نام پر وہ کنیت رکھ سکتیں۔ ۳۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی کنیت غا لباَ َحضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی نسبت سے رکھی تھی جو ام المومنین ؓکے بھانجے اور حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے فرزند تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت