باب: دعا کی فضیلت
3828 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (غافر:60)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دعا ہی عبادت ہے۔ پھر نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی ( وَقَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ) اور تمہارے رب نے فرمایا:مجھے پکارو،میں تمہاری پکار قبول کروں گا۔
کسی مخلوق سے ایسی چیز کا سوال کرنا جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اس مخلوق کی عبادت ہے، لہذا شرک ہے۔ وہ مخلوق خواہ بے جان پتھر ، سورج ، ستارے ، درخت وغیرہ ہوں کیا حیوان ، جن، فرشتہ ، ولی یا نبی، ان سے اسباب سے ماورا طریقے سے کچھ طلب کرنا شرک ہے۔