3835 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے رویت ہے، انہوں نے رسول اللہ سے عرض کی کہ مجھےکوئی دعا سکھائیں جو میں نماز میں مانگا کروں۔ آپﷺ نے فرمایا: ''آپ یو ں کہا کریں: [اللهم إني ظلمت نفسي ظلمًا خثيرًا والا يغفر الذنوب إلّا أنت فاغفرلي مغفرةٌ من عندِ ربِّك وارْحمْني إنك أنت الغفورٌ الرَّحيمُ] ''اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ اپنے پاس سے میری مغفرت فر اور مجھ پر رحمت فرما۔ بلا شبہ تو ہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔''
۱ ۔ نماز میں سلام سے پہلے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں۔ ۲۔ گناہوں کی بخشش کےلیے دعا کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ۳۔ دعائے مغفرت کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی گناہ سر زد ہوا ہو۔