فهرس الكتاب

الصفحة 395 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: کیا آدمی نیندسے بیدارہوکربغیر ہاتھ دھوئےپانی کے برتن ڈال سکتا ہے

395 حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ النَّوْمِ فَأَرَادَ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ وَلَا عَلَى مَا وَضَعَهَا

سیدنا جابر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جب کوئی نیند سے بیدار ہو کر وضو کرنا چاہے تو وضو کے پانی میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیوں کہ اسے معلوم نہیں کہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا ہے اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس نے کس چیز پر ہاتھ رکھا ہے۔''

ابو اسحاق نے کہا'صحیح سند جابر عن ابی ہریرہ ہے۔

فائدہ: اس روایت میں تین بار دھونے کی صراحیت ہے۔حدیث 393 میں"دو یا تین بار"دھونے کا ذکر ہے'اس لیے علماء کہتے ہیں کہ تین بار دھونا بہتر ہے واجب نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت