3954 حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ فِتَنٌ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللَّهُ بِالْعِلْمِ»
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مستقبل میں) ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں آدمی صبح کو مومن ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا (اور شام کو مومن ہو گا تو صبح کو کافر ہو جائے گا۔) مگر جسے اللہ علم کے ذریعے سے زندہ رکھے۔
1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ روایت آخری جملے (الا من احياء الله بالعلم) مگر جسےا للہ علم کے ذریعے زندہ رکھے کے سوا باقی صحیح ہے نیز اس حدیث کی بابت دیگر محققین کی یہی رائے معلوم ہوتی ہے۔دیکھیے: (ضعيف سنن ابن ماجه لالباني رقم:79- طبع مكتبةالمعارف الرياض ) بنابریں مذکورہ روایت آخری جملے کے سوا صحیح ہے۔واللہ اعلم۔
2۔ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دینا نبی ﷺ کا معجزہ اور آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
3۔ فتنوں کے بارے میں خبردار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان حالات میں اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کا زیادہ خیال رکھیں۔
4۔بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان انھیں معمولی سمجھتا ہے حالانکہ وہ اسلام سے خارج کردینے والے ہوتے ہیں اس لیے کسای بھی گناہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔