فهرس الكتاب

الصفحة 3965 من 4341

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

باب: دو مسلمانوں کا تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آجانا

3965 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ، فَهُمَا عَلَى جُرُفِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، دَخَلَا جَمِيعًا»

حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: جب دو مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھاتا ہے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں۔ جب ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کر دیتا ہے تو دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔

1۔جہنم کے کنارے پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے ان دونوں کے جہنمی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن ان کے لیے جہنم سے بچنے کا موقع باقی ہوتا ہے کہ لڑائی سے باز آجائیں۔

2۔ مومن کا قتل جہنم میں پہنچانے والا عمل ہےالبتہ توبہ یا قصاص سے یہ گناہ معاف ہوسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت