3976 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوَئِيلَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی انسان کے اسلام کی خوبی ہے کہ جس معاملے سے اس کا تعلق نہیں اسے چھوڑ دے۔
1۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ الموسوعۃالحدیثیہ مسندالامام احمد کے محققین اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت شواہد کی بنا پر حسن درجے کی ہے۔اور محقق عصر شیخ البانیؒ نے اسےصحیح قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی شرح السنہ کی روایت کو سندًا صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی کی تحسین کو بھی نوٹ کیا ہےنیز اس کے مزید شواہد کا بھی ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے ( الموسوعة الحديثية مسنداالامام احمد:3/256 وصحيح سنن ابن ماجه رقم3226طبع مكتبة المعارف الرياض)
2۔غیر متعلقہ امور میں بے جا مداخلت غلط نتائج پیدا کرتی ہے۔
3۔برے کام سے منع کرنا بے جا مداخلت میں شامل نہیں۔