فهرس الكتاب
4009 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، هُمْ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ، لَا يُغَيِّرُونَ، إِلَّا عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ»
حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جن لوگوں میں اللہ کی نافرمانی کی جائے جب کہ وہ (گناہ کرنے والوں سے ) زیادہ طاقتوراور زیادہ زور آور ہوں، اس کے باوجود (مجرموں کو گناہ سے) منع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل کر دیتا ہے۔
1۔جس کو اللہ تعالی دنیاوی طور پر دولت عزت اور قوت دے اس کی ذمہ داری ہے کہ نیکی کے فروغ اور گناہ کے سد باب کے لیے کوشش کرے۔
2۔ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق برائی روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
3۔دنیا میں اللہ کا عذاب آتا ہے تو نیک بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں لیکن یہ عذاب اس وقت آتا ہے جب معاشرے میں گناہ کی کثرت ہوجائے۔