فهرس الكتاب

الصفحة 4012 من 4341

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

باب: نیکی کا حکم دینا اور برائی سےروکنا

4012 حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ، سَأَلَهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِيَرْكَبَ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ ‍‍قَالَ: «كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ»

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی پہلے جمرے کے قریب رسول اللہﷺ کے سامنے آیا اور کہا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ خاموش رہے۔ جب آپ دوسرے ججمرے پر پہنچے تو اس نے (پھر) سوال کیا۔ آپ خاموش رہے۔ پھر جب آپ نے جمرۂ عقبہ (بڑےجمرے) پر کنکریاں ماریں اور سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں رکھا تو فرمایا: سوال کرنے کہاں ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا (افضل جہاد ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت