فهرس الكتاب

الصفحة 4025 من 4341

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

باب: مصیبت پر صبر کا بیان

4025 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ، وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَيَقُولُ: «رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کسی نبی کی حالت بیان فرمارہے ہیں: اسے اس کی قوم نے مارا، وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے تھے اور کہتے تھے: میرے رب! میری قوم کو معاف کردے، وہ جانتے نہیں۔

1۔ہدایت کی طرف بلانے والوں کو مشکلات آتی ہیں حتیٰ کہ انبیاء بھی بہت سی تکلیفیں برداشت کرتے رہے ہیں۔

2۔ممکن ہے اس حدیث میں کسی نبی سے مراد خود نبی ﷺ ہوں اور طائف کے واقعہ کی طرف اشارہ مقصود ہو۔والله اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت