فهرس الكتاب

الصفحة 4034 من 4341

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

باب: مصیبت پر صبر کا بیان

4034 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ: «لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ، وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا، فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ»

حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے جگری دوست (جانی محبوب) ﷺ نے نصیحت کرے ہوئے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، خواہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے تجھے دجلا دیا جائے۔ اور فرض نماز جان بوجھ کر ترک نہ کرنا۔ جس نے اسے عمدًا ترک کیا، اس سے (اللہ کی حفاظت کا) ذمہ جاتا رہا۔ اور شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی چابی ہے۔

1۔شرک سب سے بڑا جرم ہے۔لہذا سخت سے سخت حالات میں بھی اس سے بچنا ضروری ہے۔

2۔عقیدہ توحید کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو سعادت ہے۔

3۔شرک کے بعد بڑا گناہ نماز چھوڑنا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔

4۔عقل اللہ کی بڑی نعمت ہے۔نشہ آور اشیاء کے استعمال سے اس نعمت کو ضائع کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔

5۔نشے کی وجہ سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔اس لیے مسلمان کے لیے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت