4065 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَعَلَّ فِيهِمْ الْمُكْرَهَ قَالَ إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ
حضرت اُم سلمہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے اس لشکر کا ذکر فرمایا جسے دھنسا دیا جائے گا۔ اُم سلمہ ؓا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شاید ان میں کوئی ایسا شخص بھی ہو جسے جبر سے لایا گیا ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ''انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اُٹھایا جائے گا''۔
1۔بڑے جرم کے ارتکاب پر اللہ کا عذاب بعض اوقات مجرموں کو دنیا یہ میں پکڑ لیتا ہے۔
2۔مجرموں کے ساتھ چلنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
3۔قیامت کو سزا صرف مجرموں کو ملے گی'خواہ وہ جرم کا ارتکاب کرنےوالے افراد ہوں یا ان سے کسی نہ کسی انداز سے تعاون کرنے والے یا ان کے جرم کو معمولی سمجھ کر روکنے کی کوشش نہ کرنے والے یاان کے جرم سے نفرت نہ رکھنے والے ہوں۔