4147 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِرَارًا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو کئی بار یہ فرماتے سنا ہے: ''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ ) کی جان ہے ! آج محمد (ﷺ) کے گھر والوں کے پاس ایک صاع غلہ ہے نہ ایک صاع کھجوریں ''۔
ان دنوں رسول اکرم ﷺ کی نو بیویاں تھیں ۔
صاع کا مطلب ٹوپا ہے جو غلہ ماپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اہل مدینہ کا صاع تقریبًا ڈھائی کلو گرام ہوتا تھا۔