فهرس الكتاب

الصفحة 4167 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: توکل اور یقین

4167 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر شخص کو اس حال میں موت آنی چاہیئے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو

1۔انسان کو اللہ کی رحمت کی امید اور اس کی ناراضی کا خوف ،دونوں کی ضرورت ہے۔امید اسے نیکیوں کی رغبت دلاتی ہے اور خوف اسے گناہ سے باز رکھتا ہے۔

2۔زندگی میں امید پر خوف کا غلبہ رہنا چاہیے لیکن وفات کے وقت امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔

3۔اللہ سے حسن ظن کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یہ امید رکھے کہ اس کی توفیق سےزندگی میں جو نیک کام ہوئے ہیں اللہ تعالی انھیں قبول فرمائے گا اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔

4۔ امید کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی عادت ہو اور نیکیوں کی طرف رغبت نہ ہو۔ جب نصیحت کی جائے تو کہہ دے: اللہ بہت رحم کرنے والا ہے۔یہ امید کا غلط تصور ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت