فهرس الكتاب

الصفحة 4183 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: حیا کا بیان

4183 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ

حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں تک پہلی نبوت کا جو کلام پہنچا ہے اس میں یہ بھی ہے: جب تو حیاء نہ کرے تو جو چاہے کر''۔

1۔حیا کی اہمیت سابقہ شریعتوں میں بھی مسلمہ تھی ۔

2۔حیا انسان کو برے کاموں سے روکنے کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔جب کسی میں حیا نہ ہوتو اس سے گندھے سے گندھے گناہ کی توقع کی جاسکتی ہے۔

3۔اس حدیث کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس کام میں ایک شریف آدمی شرم محسوس نہں کرتا وہ شرعًا جائز ہوتا ہے۔اور جس کام سے شرم محسوس ہو اس سے بچ جانا چاہیے تاہم بعض اوقات معاشرے کی حالت تبدیل ہوجانے سے گناہ عام ہوجائے اور نیکی کا رواج نہ رہے تو وہ اس حکم میں نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت