فهرس الكتاب

الصفحة 4193 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: غم اور رونا

4193 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُكْثِرُوا الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زیادہ مت ہنسو کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے''۔

1۔ دل مردہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مردہ انسان کو کسی چیز کا احساس نہیں ہوتا اسی طرح غافل آدمی کو بھی اپنی آخرت کے نفع اور نقصان کا احساس نہیں ہوتا۔

2۔ دل جب مردہ ہوجائے تو اس میں نرمی کی جگہ ،سختی رحم کی جگہ ظلم کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔نیکی سے محبت اور گناہ سے نفرت ختم ہوجاتی ہے۔

3۔خندہ پیشانی ایک اچھی عادت اور شرعًا مطلوب ہے لیکن ہر چیز سے بے پرواہ ہو کر ہر وقت ہنسی مذاق اور دل لگی میں وقت گزارنا غفلت اور مردہ دلی کی علامت ہے۔دوسروں کی مصیبت کو اپنی سمجھنا اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت