4199 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ كَالْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَسْفَلُهُ طَابَ أَعْلَاهُ وَإِذَا فَسَدَ أَسْفَلُهُ فَسَدَ أَعْلَاهُ
حضرت معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عملوں کی مثال برتن کی سی ہے۔ اگر اس میں نیچے کا (پانی وغیرہ) اچھا ہو گا تو اوپر والا حصہ بھی اچھا ہو گا۔ اگر نیچے والا خراب ہو گا تو اوپر والا بھی خراب ہو گا''۔
1۔اگر عمل کرتے وقت دل کی گہرائی میں خلوص ہوگا تو عمل اچھا اور قابل قبول ہوگا۔اگر دل میں خلوص نہیں تو بظاہر اچھا نظر آنے والا عمل بھی حقیقت میں اچھا نہیں۔
2۔برتن میں پانی پڑا ہوا ہو اور برتن کے نچلے حصے میں گندگی موجود ہو تو برتن کا سارا پانی اس سے متاثر ہو کر ناقابل استعمال ہوجاتا ہے خواہ بظاہر اوپر والا پانی صاف محسوس ہورہا ہو۔عمل اور اخلاص کی یہی مثال ہے۔