فهرس الكتاب

الصفحة 4207 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: دکھلاوے اورشہرت کابیان

4207 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ

حضرت جندب (بن عبد اللہ بن سفیا ن ) سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر یا جو دکھلا وا کر ے گا ۔اللہ اس کی حقیقت ظا ہر کر دے گا ۔ اور جو شہر ت کے لئے نیکی کر تا ہے اللہ اس کی تشہیر کر ے گا

1۔ ریاکاری کرنے والا کام اس لیے کرتا ہے کہ لوگوں میں اس کی خوبی کی شہرت ہو اور وہ اس کی تعریف اور عزت کریں لیکن اللہ تعالی کے سامنے اس کی یہ بری نیت ظاہر کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ بدنام ہوجاتا ہے اور اس کی عزت ختم ہوجاتی ہے۔

2۔اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی سب مخلوق کے سامنے یہ ظاہر فرمادے گاکہ یہ شخص اخلاص کے ساتھ نیکی نہیں کرتا تھا جس سے سب کے سامنے اس کی بے عزتی ہوجائے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت