فهرس الكتاب

الصفحة 4209 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: حسد کا بیان

4209 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روا یت ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فر یا ۔حسد (شک ) صر ف دو کا مو ں میں جا ئز ہے ۔ایک اس آ دمی سے (رشک کر نا چا ہیے ) جسے اللہ نے قرآ ن (کا علم ) دیا ۔ وہ رات کے اوقات میں بھی اس پر قا ئم رہتا ہے ۔ اور دن کے اوقات میں بھی اور ( دوسرا) وہ آ دمی جس کو اللہ نے ل دیا وہ را ت کے اوقات میں بھی اسے ( نیکی کے کا مو ں میں ) خر چ کر تا ہے اور دن کے اوقات میں بھی ( اس پر رشک کر نا چا ہیے )

(يقوم به) کا مطلب اس پر عمل کرنا بھی ہے اورنماز کے قیام میں اس کی تلاوت بھی خواہ فرض نمازوں میں ہو یا نوافل و تہجد میں۔

2۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

3۔مسجدوں کے میناروں اور دیواروں کی زیب و زینت کی بجائے علماء اور طلباء پر خرچ کرنا زیادہ ثواب ہے۔اسی طرح مسجد کے مفلس یا مقروض نمازی اور مسجد کے قرب و جوار میں رہنے والے مدد کے مستحق غریب آدمیوں کو کو دینا زیادہ ضروری ہے۔مسجد سادہ رہے تو افضل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت