4216 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ قَالُوا صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ لَا إِثْمَ فِيهِ وَلَا بَغْيَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا ۔ کو ن سا آدمی افضل ہے آپ نے فر یا ہر صا ف دل والا صحا بہ نے عر ض کیا سچی زبا ن والا تو ہم جا نتے ہیں ۔ صاف دل والا کو ن ہو تا ہے آ پ نے فر یا پر ہیز گا ر پا ک با ز جس (کے دل ) میں نہ کو ئی گنا ہ ہو نہ زیا دتی نہ کینہ نہ حسد
1۔ دل کی صفائی اور پاکیزگی آخرت میں نجات کا باعث ہے۔
2۔ متقی آدمی دوسروں سے افضل ہے۔
3۔کینے کا مطلب ہے دل میں ناراضی رکھنا تاکہ موقع ملنے پر بدلہ لیا جاسکے۔یہ بہت ہی بری عادت ہے۔