4219 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى
حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روا یت ہے رسول اللہ ﷺ نے فر یا حسب ل ہے اور شر ف تقوی ہے
1۔لوگ مال دیکھ کر عزت کرتے ہیں ۔اونچے خاندان کا ایک آدمی غریب ہوجائے ت اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔لوگوں کے ہاں یہ کیفیت ہے۔
2۔اصل چیز جو عزت واحترام کا باعث ہونی چاہیے وہ کسی کی نیکی اور پرہیز گاری ہے۔اصل شرف یہی ہے اس لیے آخرت میں تقویٰ کی بنیاد پر ہی عزت ملے گی۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (ان اكرمكم عند الله اتقاكم ) (الحجرات 49/13) اللہ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ متقی ہو۔