فهرس الكتاب

الصفحة 425 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: وضو میں میانہ روی اختیار کرنےاور زیادتی کےمکروہ ہونے کابیان

425 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ مَا هَذَا السَّرَفُ فَقَالَ أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ قَالَ نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ

سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد ؓ وضو کر رہے تھے ۔رسول اللہ ﷺ پاس سے گزرے تو فرمایا:'' یہ کیا اسراف ہے؟'' انہوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ فرمایا:'' ہاں، اگرچہ تم بہتے دریا پر ( اس کے کنارے بیٹھے ) ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت