فهرس الكتاب

الصفحة 4263 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: موت کی یاد اور اس کے لیے تیاری

4263 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ قَبَضَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فَتَقُولُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَبِّ هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے ۔ نبی ﷺ نے فر یا جب کسی شخص کی موت خا ص جگہ پر آ نا مقدر ہو تی ہے ۔ اس کی (کو ئی دنیوی ) ضرورت اسے وہا ں لے جا تی ہے ۔جب وہ اپنے آخر ی قدم تک پہنچتا ہے ۔ تو اللہ تعا لی اسے فو ت کر لیتا ہے ۔ قیا مت کے دن زمین کہے گی ۔میر ے لک تم نے جو میرے پا س ا نت رکھی تھی وہ یہ ( حا ضر ) ہے۔

1۔اللہ کا علم کامل اور اکمل ہے۔اسے معلوم ہے کس شخص کی موت کہاں آنے کافیصلہ ہوچکا ہے۔بندے کو معلوم نہیں ہے۔ارشاد ہے۔ ( وَمَا تَدْرِ‌ي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِ‌ي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْ‌ضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ‌(لقمان ۳۴/۳۱) کسی کومعلوم نہیں کہ وہ کس زمین میں مرےگا۔اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔ 2۔انسان کی موت اپنے وقت مقرر پرآتی ہے۔ظاہری طور پر کوئی سبب بن جاتا ہے۔جسے ہم حادثہ قرار دے لیتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت