فهرس الكتاب

الصفحة 4270 من 4341

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

باب: قبر کا اٰور جسم کے گل سڑ جانے کا بیان

4270 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ۔نبﷺ نے فر یا جب کو ئی شخص فو ت ہو جا تا ہے ۔ تو اسے صبح و شا م اس کا ٹھکا نہ دکھا یا جا تا ہے ۔ اگر وہ جنتی ہے ۔ تو جنت کا ٹھکا نہ دکھایا جا تا ہے اور اگر جہنمی ہے ۔ تو جہنم کا ٹھکا نا دکھا یا جا تا ہے ۔ یہ تیرا ٹھکا نا ہے ۔ حتی کہ تجھے قیا مت کے دن ( قبر سے ) اٹھا یا جا ئے ۔

1۔قبر کے ساتھ جنت اور جہنم کاجوتعلق قائم رہتا ہے۔اس کی وجہ سے مرنے والے کو جنت یا جہنم کی ہوا مسلسل آتی رہتی ہے۔اور ایک حد تک راحت یاعذاب بھی مسلسل ہوتا ہے لیکن دن رات میں دودفعہ اسے جنت یا جہنم میں موجود اس کاگھر بھی دیکھایاجاتا ہے۔ تاکہ اس کی خوشی یارنج میں مذید اضافہ ہو2۔ یہ تیراٹھکانہ ہے اس میں اشارہ قبر کی طرف ہے۔یعنی تو اس قبر میں رہے گا حتیٰ کہ قیامت آئے اور توا س ٹھکانے پر پہنچے جو تجھے دیکھایاگیا ہے۔ہوسکتا ہے اشارہ اسی ابدی ٹھکانے کی طرف ہو جو اسے دیکھایا جاتاہے۔یعنی اسے قیامت تک جنت یاجہنم کا وہ مقام روزانہ دکھایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تو اس مقام پر پہنچے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت