فهرس الكتاب

الصفحة 44 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرنا

44 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر چہرہٴ مبارک ہماری طرف پھیرلیا اور ایک پر تاثیر وعظ فرمایا۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث بیان کی۔

(1) نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔ (2) وعظ و نصیحت کے لیے فرض نماز کے بعد کا وقت مناسب ہے، کیونکہ اس موقع پر مسلمان جمع ہوتے ہیں اور توجہ سے امام کی بات سنتے ہیں۔ تاہم وعظ اس قدر طویل نہیں ہونا چاہیے کہ سامعین اکتاہٹ محسوس کرنے لگیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت