460 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
سیدنا رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے تو آپ نے فرمایا:'' کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ اپنا وضو اس طرح کامل طور پر نہ کرے جس طرح اسے اللہ نے حکم دیا ہے۔ ( یعنی) اپنا چہرہ اور کہنیوں تک بازو دھوئے ، سر کا مسح کرے اور ٹخنوں تک پاؤں دھوئے۔
1۔وضو میں نقص سے نمازمتاثر ہوتی ہےاور اس کا پورا ثواب نہیں ملتا۔
2۔وجو کا کامل طریقہ وہ ہے جو گزشتہ احادیث میں تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے۔
3۔یہ حدیث سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کی تفسیر ہے جس سے واضح ہےکہ قرآن مجید میں بھی پیرون کے دھونے کا حکم ہے نہ کہ مسح کرنے کا۔