فهرس الكتاب

الصفحة 510 من 4341

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

باب: ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرنا اور ایک وضو سے سب نمازیں پڑھ لینا

510 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ

سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی ؓ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ ہر نماز کے لئے ( نیا) وضو کیا کرتے تھے۔ جس دن مکہ فتح ہوا اس دن آپ ﷺ نے سب نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔

نبی اکرم ﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے لیکن فتح مکہ کے دن آپ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں:۔

1۔ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا صرف آپ ہی کے لیے واجب ہواور امت کے لیے واجب نہ ہو۔پھر یہ وجوب فتح مکہ کے دن ختم کردیا گیا اور ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا افضل ہونا باقی رہ گیا

2۔اپ کا یہ فعل مستحب تھا مگر آپ نے اس ڈر سے ترک کردیاکہ کہیں امت پر فرض قرار نہ دے دیا جائے جیسا کہ آپ نے نماز تراویح کو باجماعت ادا کرنا چھوڑدیا تھا۔دیکھیے: (فتح الباري:11/412)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت