545 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ سیدنا مغیرہ ؓ ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے ساتھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
1۔ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہےجیسا کہ موطا: (1/11 حديث:75) میں اس کی وضاحت ہے۔
2۔رسول اللہﷺقضائےحاجت کے لیے اتنی دور جاتے تھے کہ کوئی نہ دیکھے: (سنن ابن ماجہ:231تا232) جب کوئی صحابی پانی لےکر ساتھ جاتا تھا تو وہ بھی ایک مقام پر رک جاتا تھا اس کے بعدآپﷺ اکیلے لے کر کسی کی آڑ میں یاساتھی سے کافی دور تشریف لے جاتے تھے۔حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوا جیسے کہ سنن ابن ماجہ حدیث:389389سے معلوم ہوتا ہے۔