555 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ الثُّمَالِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الطُّهُورُ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! موزے پہن کر وضو کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''مسافر کے لئے تین دن رات، اور مقیم کے لئے ایک دن رات ( مسح کرنا درست ہے۔'')
مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہے لیکن معنًا صحیح ہے یعنی مسئلہ درست ہے جیسا کہ آئندہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے غالبًا اسی وجہ سے شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے