فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: رائے اور قیاس سے پرہیز کا بیان

56 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَمْ يَزَلْ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا حَتَّى نَشَأَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ، وَأَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، فَقَالُوا بِالرَّأْيِ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے:''بنی اسرائیل کا معاملہ درست رہا حتٰی کہ ان میں دوسری قوموں کی لونڈیوں کی اولاد پیدا ہوگئی۔ ( بڑے ہوکر) انہوں نے اپنی رائے سے مسائل بیان کیے ،تو وہ گمراہ ہوئے اور ( دوسروں کو بھی) گمراہ کیا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت