فهرس الكتاب

الصفحة 570 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: تیمم کے لیے(زمین پر)ایک بار ہاتھ مارنا

570 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ أَنَّهُمَا سَأَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَضَهُمَا وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ قَالَ الْحَكَمُ وَيَدَيْهِ وَقَالَ سَلَمَةُ وَمِرْفَقَيْهِ

جناب حکم اور سلمہ بن کہیل سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن ابو اوفی ؓ سے تیمم کا مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے سیدنا عمار ؓ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے ، پھر انہیں جھاڑا اور انہیں اپنے چہرے پر پھیر لیا۔

مطلب یہ ہے کہ ایک راوی (حکم) نے کہا:چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو مل لیا (اور یہی بات صحیح ہے) اور دوسرے راوی (سلمہ) نے کہاکہ پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں پر پھیر لیا۔یہ بات ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔غالبًا اسی وجہ سے دوسرے راوی کے الفاظ: اپنی کہنیوں پر پھیرلیا کو بعض محققین نے منکر قراردیا ہےاور باقی روایت کو صحیح قراردیاہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت