فهرس الكتاب

الصفحة 576 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: غسل جنابت کے بیان میں

576 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ

سیدنا ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: تین (لپ پانی سر پر ڈالو۔) اس شخص نے کہا: میرے بال بہت زیادہ ہیں۔ سیدنا ابو سعید ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے بال تم سے زیادہ تھے، اور وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے۔

1۔ وہ تم سے زیادہ پاکیزہ تھے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تم سے زیادہ صفائی اور طھارت کا اہتمام کرنے والے تھے ۔اس کے باوجود تین لپ پانی آپ کے لیے کافی ہوتا تھا''اس لیے تمھارے لیے بھی یہ کافی ہونا چاہیے۔دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ کے بال تجھ سے زیادہ پاک تھے کیونکہ نبی ﷺ طہارت کا کوب کیال رکھتے تھے۔بہر حال دونوں انداز سے نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ صفائی کے لیے زیادہ پانی ضائع کرنا ضروری نہیں۔مناسب طریقے سے سر دھویا جائے تو تھوڑا پانی بھی کفایت کرسکتا ہے۔

2۔مذکورہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن معنًا صحیح ہے کیونکہ بعد والی صحیح روایت میں یہی بات بیان کی گئی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت