فهرس الكتاب

الصفحة 614 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: نہاتے وقت پردے کا اہتمام کرنا

614 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ

جناب عبداللہ بن نوفل سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے (صحابہ کرام سے) سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں نفل پڑھے ہیں؟ کوئی شخص مجھے (یہ مسئلہ) بتانے والا نہ ملا۔ آخر مجھے ام ہانی بنت ابو طالب ؓا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال ( مکہ مکرمہ) تشریف لائے۔ آپ نے حکم دیا تو آپ پر پردہ کیا گیا، چنانچہ آپ نے غسل کیا پھر آٹھ رکعت نفل ادا کیے۔

1-اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہاتے وقت پردہ کرلینا چاہیےاگر چہ جسم پر مختصر لباس بھی موجود ہو۔اس چیز کا اشارہ اس بات سے ملتا ہےکہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی''اور ابن ہبیرہ کو امان عطا فرمائی ۔ (صحیح مسلم ''صلاۃ المسافرین''باب استحباب صلاۃ الضحی ۔۔۔۔۔۔۔''حدیث:336 حدیث:720) جب کہ قضائے حاجت کے وقت ستر کھول کر باتیں کرنے پر اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے۔جیسے کہ حدیث میں بیان ہواہے۔اس لیے اس موقع پر غسل کرتے ہوئے نبیﷺ نے یقینًا مختصر لباس پہنا ہوا ہوگا ورنہ ام ہانی رضی اللہ عنہ سے کلام نہ فرماتے۔

2۔فتح مکہ کے موقع نبیﷺ مکہ مکرمہ میں مسافر کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے''اس کے باوجود نماز ضحی ادا فرمائی جو نفلی نماز ہے''البتہ آپ سفر میں سنن رواتب (فرض نماز پہلے اور بعد میں پڑھی جانے والی سنتیں) نہیں پڑھتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت