فهرس الكتاب

الصفحة 655 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: جب لڑکی بالغ ہو جائے تو(سر پر)اوڑھنی لیے بغیر نماز نہ پڑھے

655 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ

سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔''

1۔عورت کے لیے نماز میں سر چھپانا لازمی ہے خواہ تنہائی میں نماز پڑھ رہی ہوجہاں اس پر کسی کی نظر نہ پڑتی ہو۔یہ سر چھپانا پردے کے لیے نہیں کیونکہ محرم رشتہ داروں سے سر چھپانا فرض نہیں۔

2۔عورت کا ذکر کرنے سے معلوم ہو کہ مرد کا یہ حکم نہیں وہ ننگے سر نماز پڑھ سکتا ہے تاہم مرد کے لیے بھی عادتًا ننگے سر رہنا نا پسندیدہ امر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت