فهرس الكتاب

الصفحة 664 من 4341

کتاب: تیمم کے احکام ومسائل

باب: اگر غسل جنابت کے دوران میں جسم کا کوئی تھوڑا سا حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے ؟

664 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ

سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے غسل جنابت کیا اور فجر کی نماز پڑھی۔ دن چڑھا تو مجھے ایک ناخن کے برابر جگہ نظر آئی جہاں ( غسل کے دوران میں) پانی نہیں پہنچا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تو اس جگہ (گیلا) ہاتھ پھیر دیتا تو کافی ہوتا۔''

یہ دونوں روایات ضعیف ہیں اس لیے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتاجوان میں بیان ہوا ہے۔گویا ایسی صورت میں غسل یا وضو کا اعادہ ضروری ہوگا۔واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت