688 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا میں نمازمغرب اس وقت ادا کرتے تھ ،جب سورج اوٹ میں چھپ جاتا ۔
فائدہ: اوٹ (پردے) میں چھپ جانے کا مطلب یہ ہےکہ سورج کی ٹکیہ پوری طرح غروب ہوجاتی اور اس کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا یعنی سورج مکمل طور پر غروب ہونے پر نماز مغرب کا وقت شروع ہوتا ہے۔