فهرس الكتاب

الصفحة 692 من 4341

کتاب: نماز سے متعلق احکام ومسائل

باب: نماز عشاء کا وقت

692 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ

جناب حمید ؓ سے روایت ہے،ا نہوں نے کہا: سیدنا انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ایک رات آپ ﷺ نے عشاء کی نماز کو آدھی رات کے قریب تک مؤخر کیا۔ جب نماز پڑھ چکے تو چہرہٴ مبارک ہماری طرف کر کے فرمایا: ''لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم جب تک نماز کے انتظار میں رہو گے ( ثواب کے اعتبار سے) نماز ہی میں ( شمار) ہوگے۔''

حضرت انس ؓ نے فرمایا: (مجھے اب بھی وہ منظر یاد ہے) گویا نبیﷺ کی انگوٹھی کی چمک میری نظروں کے سامنے ہے۔

1۔رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل عشاء کی نماز جلدی پڑھنے کاہے یعنی اتنی زیادہ تاخیر نہیں فرماتے تھے۔کبھی کبھی یہ عمل افضلیت کے اظہار کے لیے اختیار فرماتے تھے۔

2۔نواب وحید االزمان خان نے عملًا جلدی پڑھنے اور قولًا تاخیر کی فضیلت بیان کرنے کی حدیثوں میں تطبیق دیتے ہوئے کہا کہ اگر سب مقتدی جاگنے پر راضی ہوں اور تاخیر میں ان کو تکلیف نہ ہو تو تاخیر کرنا افضل ہے ورنہ اول وقت میں پڑھ لینا افضل ہے۔ والله اعلمّ

3۔نماز کے بعد وعظ و نصیحت کی جاسکتی ہے۔

4۔نماز کا انتظار بہت فضیلت والا عمل ہے۔

5۔انگوٹھی پہننا جائز ہے تاہم مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتا ہے سونے کا استعمال مرد کے لیے جائز نہیں۔ (سنن ابن ماجہ اللباس باب لبس الحریر والذھب للنساء حدیث)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت