747 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبْعُ مَوَاطِنَ لَا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلَاةُ ظَاهِرُ بَيْتِ اللَّهِ وَالْمَقْبَرَةُ وَالْمَزْبَلَةُ وَالْمَجْزَرَةُ وَالْحَمَّامُ وَعَطَنُ الْإِبِلِ وَمَحَجَّةُ الطَّرِيقِ
سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساتھ جگہ نماز پڑھنا جائز نہیں۔ بیت اللہ کی چھت پر، قبرستان میں، کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ، مذبھ ( جانور ذبح کرنے کی جگہ) میں، غسل خانے میں اونٹوں کے باڑے میں، اور عام راستے کے درمیان میں۔ ''
"1۔روایت سندًا ضعیف ہونے کے باوجود یہ مسئلہ درست ہے کہ نجاست کی جگہ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ نبیﷺ کا حکم ہے کہ مسجدوں کو پاک صاف رکھا جائے اور وہاں خوشبو استعمال کی جائے۔دیکھیے: (سنن ابن ماجه حديث:757) "
2۔مذبح (جانور ذبح کرنے کی جگہ) میں بھی یہ سب کچھ پایا جاتا ہے اس لیے وہاں بھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔غسل خانے اور قبرستان میں ممانعت کی حدیث صحیح ہے ۔دیکھیے: (سنن ابن ماجه حديث:754) ""